کولکاتہ، یکم جون (ایس او نیوز /ایجنسی) آج مغربی بنگال میں ووٹنگ کے دوران کئی حصوں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ریاست میں صبح ۹؍بجے تک اپولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، صبح ۹؍بجے تک، سیاسی جماعتوں کی جانب سے تقریباً مختلف حلقوں میں۷۱۵؍شکایات درج کی گئی ہیں ، جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) میں خرابی، ایجنٹوں کو پولنگ بوتھ میں داخلے سے روکنے اور ووٹرز کو خوفزدہ کرنے یا ووٹ ڈالنے سے روکنے کے الزامات شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی ۹؍ سیٹوں پر سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان پولنگ ہو رہی ہے۔ جن میںدم دم (۸۶ء۱۰فیصد)، باراسات (۹۴ء۱۲فیصد)، بشیرہاٹ (۶۶ء۱۵فیصد)، جے نگر (۱۳ء۱۳فیصد)، متھرا پور (۵۴ء۱۳فیصد) ، ڈائمنڈ ہاربر (۱۶ء۱۴فیصد)، جاداو پور (۵۴ء۱۳فیصد)، کولکاتا دکشن (۱۶ء۱۰فیصد) اور کولکتہ اتر (۹۲ء۸فیصد)شامل ہیں۔
دم دم لوک سبھا سیٹ کے تحت بارانگر حلقہ میں بھی اسمبلی ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ یہاں تقریباً ۱۱؍فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔جادو پور حلقہ کے بھنگر میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ دونوں جماعتوں کے حامیوں کے ذریعے کروڈ بم بھی پھینکے گئے۔ پولیس کے جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد مظاہرے پھوٹ پڑے کیونکہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے اور ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارچ کا استعمال کیا۔ علاقے سے کچھ کروڈ بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس واقعہ پر کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔
بعد ازیں بھنگر کے پھولباری علاقے میں، ٹی ایم سی اور آئی ایس ایف کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں پولیس اور مرکزی فورس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارچ کا استعمال کیا۔
جنوبی ۲۴؍پرگنہ ضلع کے کلتلی میں بوتھ نمبر ۴۰؍اور۴۱؍پر، ایک ای وی ایم اور ووٹر ویریفائیبل پیپر آڈٹ ٹریل ( وی وی پیٹ ) مشین کو مبینہ طور پر پانی میں پھینک دیا گیا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ ریزرو مشینیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کےسینئر اہلکار نے کہا کہ ’’پولنگ کے عمل کو خراب نہیں کیا گیا ہےجنہیں ریزرو میں رکھا گیا تھا انہیں پانی میں پھینک دیا گیا۔ ہم نے پریزائیڈنگ آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے۔‘‘
کولکاتا کہ دکشن حلقے میں بی جے پی کی امیدوار دیبسری چوہدری نے باہر سے غیر متوقع افراد کو پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور زبردستی انہیں واپس بھیج دیا۔
مغربی بنگال کے سی ای او نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج صبح ۶؍ بجکر ۴۰؍ منٹ پر بینی مادھو پور ایف پی نامی اسکول کے قریب سیکٹر آفیسر کے ریزر ای وی ایم اور کاغذات کو مقامی ہجوم نے لوٹ لئے ہیں اور ایک سی یو، ایک بی یو، ۲؍ وی وی پی اے ٹی مشینیوں کو تالاب میں پھینک دیا ہے۔‘‘
ایک ؍ اے سی ، ایک ؍ بی یو، ۲؍ وی وی پی اے ٹی مشینیں تالاب کے اندر پھینک دی گئی ہیں۔اس معاملے میں سیکٹر آفیسر نے ایف آئی آر درج کر کے ضروری کارروائی شروع کی ہے۔ سیکٹر کے تحت تمام ۶؍ بوتھوں پر پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ آفیسر کو تازہ ای وی ایم اور کاغذات فراہم کئے گئے ہیں۔
تاہم ، جنوبی ۲۴؍پرگنہ ضلع کے کیننگ میں تین ووٹروں کوسر میں چوٹ لگی ہیں ۔ ووٹ دہندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر ٹی ایم سی کارکنان نے حملہ کیا۔ ڈائمنڈ ہاربر حلقہ میں، سی پی آئی ایم کے امیدوار پراتیک الرحمٰن نے مبینہ طور پر پولنگ بوتھ سے جعلی ووٹروں اور ایجنٹوں کو پکڑا۔
کولکاتا جنوبی حلقہ میں بی جے پی امیدوار دیباسری چودھری نے پولنگ بوتھوں سے باہر کے لوگوں کا پیچھا کیا۔
دم دم حلقہ میں،سی پی آئی ایم کے ایجنٹ کو ٹی ایم سی کارکنان کی جانب سے دھمکائے اور مارے پیٹھے جانے کے بعد سی پی آئی ایم کے امیدوار سوجن چکرورتی نے اپنی پارٹی کے ایجنٹ کو پولنگ بوتھ میں بیٹھنے میں مدد کی۔کولکاتا اتر حلقہ کے کوسی پور میں، بی جے پی امیدوار تاپس رائے کو کچھ پولنگ بوتھوں کا دورہ کرنے کے بعد ٹی ایم سی کارکنوں کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے لئے ’’واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔
ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے کولکاتہ جنوبی حلقہ میں مترا انسٹی ٹیوشن پہنچے۔ انہوں نے پولنگ بوتھ سے باہر آنے کے بعد کہا کہ ’’ تمام نو حلقوں میں لوگ تہوار کے موڈ میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ موسم بھی بہتر ہو گیا ہے اور زیادہ گرمی نہیں ہے۔ اس سے لوگ بڑی تعداد میں باہر نکل سکیں گے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ مجھے امید ہے کہ بنگال کے عوام پچھلے ۵؍ برس میں بنگال کو فنڈز سے محروم کرنے کا مرکز کو مناسب جواب دیں گے۔ آج کی ووٹنگ میں اس کا عکس نظر آئے گا۔‘‘
دریں اثنا، سندیش کھالی کے برماجور علاقے میں، بی جے پی نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی کارکنان اور پولیس اہلکاروں نے جمعہ کی رات ان کے پولنگ ایجنٹوں کو ان کے گھروں کا دورہ کرنے کے بعد دھمکی دی۔ ویڈیو کلپس کے حوالے سے ، پارٹی نے کہا کہ سندیش کھالی کی خواتین نے ایک بار پھر انتخابات کے آخری مرحلے سے قبل لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے ٹی ایم سی حکومت کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ’’ایکس ‘‘پر اپنی پوسٹ میں لکھاکہ ’’سندیش کھالی کی بہادر خواتین نے بدعنوان اور سمجھوتہ کرنے والی مغربی بنگال پولیس کا سامنا کیا ہے۔ ہماری خواتین لیڈران ان سے بات کر رہی ہیں اور ان میں سے ہر ایک ممتا بنرجی کے ظلم کے خلاف ووٹ دیں گی ۔ یہ ایک ایسی لڑائی ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘‘
کل ۶۴ء۱کروڑ ووٹرز، جن میں ۱۹ء۸۳؍لاکھ مرد، ۲۰ء۸۰؍لاکھ خواتین اور تیسری جنس کے ۵۳۸؍افراد شامل ہیں، ۱۷؍ہزار ۴۷۰؍ پولنگ اسٹیشنوں پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔